
وہ وہ سسکیاں جو دبائی گئیں ،طوفان تھیں جو تھمائی گئیں۔پھر ایک وقت آیا بند ٹوٹے،صحرا چھوٹے،کانٹے ٹوٹے،اور آنکھ سے ٹپکتا پانی دنیا کو سیراب کرنے لگا۔ وہ درد جو آنکھ سے ٹپکتا تھا اب سیپ میں رہ رہ کر موتی بن چکا تھا، جب سیپ کھلا تو پوری دنیا کو روشن کر دیا۔